الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِهِ يَقُولُ تَعَالَ نُؤْمِنْ بِرَبِّنَا سَاعَةً فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ لِرَجُلٍ فَغَضِبَ الرَّجُلُ فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَرَى إِلَى ابْنِ رَوَاحَةَ يُرَغِّبُ عَنْ إِيمَانِكَ إِلَى إِيمَانِ سَاعَةٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَرْحَمُ اللَّهُ ابْنَ رَوَاحَةَ إِنَّهُ يُحِبُّ الْمَجَالِسَ الَّتِي تُبَاهِي بِهَا الْمَلَائِكَةُ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ“سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ جب ان کی کسی دوست سے ملاقات ہوتی تو اس سے کہتے: آؤ کچھ دیر بیٹھ کر اپنے رب پر ایمان لے آئیں (یعنی رب کی باتیں کرکے اپنے ایمان کو تازہ کر لیں) اسی طرح انہوں نے ایک آدمی سے یہی بات کہہ دی تو وہ غضب ناک ہوگیا۔ اس نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! ابن رواحہ کو دیکھیں کہ وہ آپ کے ایمان سے اعراض کرتے ہوئے کچھ دیر کے لیے ایمان کی طرف جاتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن رواحہ پر اللہ کی رحمت ہو، وہ ایسی مجالس کو پسند کرتا ہے جن پر فرشتوں خوش ہوتے ہیں۔