حدیث نمبر: 11780
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِهِ يَقُولُ تَعَالَ نُؤْمِنْ بِرَبِّنَا سَاعَةً فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ لِرَجُلٍ فَغَضِبَ الرَّجُلُ فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَرَى إِلَى ابْنِ رَوَاحَةَ يُرَغِّبُ عَنْ إِيمَانِكَ إِلَى إِيمَانِ سَاعَةٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَرْحَمُ اللَّهُ ابْنَ رَوَاحَةَ إِنَّهُ يُحِبُّ الْمَجَالِسَ الَّتِي تُبَاهِي بِهَا الْمَلَائِكَةُ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ جب ان کی کسی دوست سے ملاقات ہوتی تو اس سے کہتے: آؤ کچھ دیر بیٹھ کر اپنے رب پر ایمان لے آئیں (یعنی رب کی باتیں کرکے اپنے ایمان کو تازہ کر لیں) اسی طرح انہوں نے ایک آدمی سے یہی بات کہہ دی تو وہ غضب ناک ہوگیا۔ اس نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! ابن رواحہ کو دیکھیں کہ وہ آپ کے ایمان سے اعراض کرتے ہوئے کچھ دیر کے لیے ایمان کی طرف جاتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن رواحہ پر اللہ کی رحمت ہو، وہ ایسی مجالس کو پسند کرتا ہے جن پر فرشتوں خوش ہوتے ہیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11780
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عمارة بن زاذان وزياد بن عبد الله النميري متكلم فيھما، وقد تفردا بھذا الحديث بھذه السياقة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13796 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13832»