الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ ذِي الْبِجَادَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: ذوالبجادین سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ ابْنِ الْأَدْرَعِ قَالَ كُنْتُ أَحْرُسُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَخَرَجَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ قَالَ فَرَآنِي فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا فَمَرَرْنَا عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”عَسَى أَنْ يَكُونَ مُرَاءً“ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يُصَلِّي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ قَالَ فَرَفَضَ يَدِي ثُمَّ قَالَ ”إِنَّكُمْ لَنْ تَنَالُوا هَذَا الْأَمْرَ بِالْمُغَالَبَةِ“ قَالَ ثُمَّ خَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَأَنَا أَحْرُسُهُ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَمَرَرْنَا عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي بِالْقُرْآنِ قَالَ فَقُلْتُ عَسَى أَنْ يَكُونَ مُرَاءً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”كَلَّا إِنَّهُ أَوَّابٌ“ قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ ذُو الْبِجَادَيْنِسیدنا ابن الادرع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہرہ دے رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی کام کی غرض سے باہر تشریف لائے، آپ نے مجھے دیکھاتو میرا ہاتھ تھام لیا، ہم چلتے چلتے ایک آدمی کے پاس سے گزرے وہ جہراً قرأت کرتے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہو سکتا ہے کہ یہ کوئی دکھلاوا کرنے والا ہو۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ تو جہراًتلاوت کرتے ہوئے نماز ادا کر رہا ہے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ جھٹک دیا اور پھر فرمایا: تم کوشش کرکے بھی اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے۔ ابن الادرع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ پھر میں رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہرہ دے رہا تھا کہ آپ کسی کام کی غرض سے باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ تھام لیا، ہم چلتے چلتے ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو جہراً تلاوت کرتے ہوئے نمازا دا کررہا تھا۔ میں نے کہا: ہو سکتا ہے کہ یہ دکھلاوا کرنے والا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر گز نہیں،یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والا شخص ہے۔ میں نے دیکھا تو وہ سیدنا عبداللہ ذوالبجا دین رضی اللہ عنہ تھے۔