الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْن عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
عَنْ أَنَسٍ قَالَ بَيْنَمَا عَائِشَةُ فِي بَيْتِهَا إِذْ سَمِعَتْ صَوْتًا فِي الْمَدِينَةِ فَقَالَتْ مَا هَذَا قَالُوا عِيرٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَدِمَتْ مِنَ الشَّامِ تَحْمِلُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ قَالَ فَكَانَتْ سَبْعَ مِائَةِ بَعِيرٍ قَالَ فَارْتَجَّتِ الْمَدِينَةُ مِنَ الصَّوْتِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”قَدْ رَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ حَبْوًا“ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَقَالَ إِنِ اسْتَطَعْتُ لَأَدْخُلَنَّهَا قَائِمًا فَجَعَلَهَا بِأَقْتَابِهَا وَأَحْمَالِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے گھر تشریف فرما تھیں کہ انہوں نے مدینہ منورہ میں زور زور کی آوازیں سنیں،انھوں نے پوچھا: یہ کیسی آواز ہے؟ بتانے والوں نے بتلایا کہ شام سے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ایک تجارتی قافلہ آیا ہے، جو ہر قسم کا سامان اٹھائے ہوئے ہے۔ و ہ سات سو اونٹ تھے، قافلے کی آوازوں سے مدینہ گونج اٹھا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے جنت میں گئے۔ جب یہ بات سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انھوں نے کہا: اگر کوشش کروں تو سیدھا کھڑا ہو کر بھی جنت میں جا سکتا ہوں، چنانچہ انہوں نے وہ سارا قافلہ اس کے پالانوں اور اٹھائے ہوئے سامان سمیت اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دیا۔