الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْن عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11764
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَزْوَاجِهِ ”إِنَّ الَّذِي يَحْنُو عَلَيْكُنَّ بَعْدِي لَهُوَ الصَّادِقُ الْبَارُّ“ اللَّهُمَّ اسْقِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ازواج سے مخاطب ہو کر فرمایا: میرے بعد جو کوئی تمہارے اوپر شفقت کرے گا وہ انتہائی سچا اور صالح ہوگا۔ یا اللہ! تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو جنت کے سلسبیل نامی چشمے سے سیراب کرنا۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کا انتہائی درجے کا احترام و اکرام اور ان کے ساتھ شفقت و رافت والا معاملہ ہوناچاہئے۔ آج اگرچہ امہات المؤمنین موجود نہیں ہیں، لیکن ان کا تذکرۂ خیر کرنا اور ان کے بشری تقاضوں کو سامنے رکھ کر ان پر کیچڑ نہ اچھالنا ہمارے ایمان و ایقان کا تقاضا ہے۔
یہ حدیث سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے۔
یہ حدیث سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے۔