الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْن عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ وَالْخُزَاعِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَتْنَا أُمُّ بَكْرٍ بِنْتُ الْمِسْوَرِ قَالَ الْخُزَاعِيُّ عَنْ أُمِّ بَكْرٍ بِنْتِ الْمِسْوَرِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ بَاعَ أَرْضًا لَهُ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ فَقَسَمَهُ فِي فُقَرَاءِ بَنِي زُهْرَةَ وَفِي الْمُهَاجِرِينَ وَأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ الْمِسْوَرُ فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ بِنَصِيبِهَا فَقَالَتْ مَنْ أَرْسَلَ بِهَذَا فَقُلْتُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَتْ أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَقَالَ الْخُزَاعِيُّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا يَحْنُو عَلَيْكُنَّ بَعْدِي إِلَّا الصَّابِرُونَ“ سَقَى اللَّهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِام بکر بنت مسور سے مروی ہے کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک زمین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو چالیس ہزار دینار میں فروخت کی۔اور انہوں نے یہ ساری رقم بنو زہرہ کے فقراء ، مہاجرین صحابہ اور امہات المومنین میں تقسیم کر دی۔ مسور کہتے ہیں: میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا حصہ لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے دریافت کیا کہ یہ رقم کس نے بھیجی ہے؟ میں نے عرض کیا: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے۔ سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی بیویوں کے حق میں فرماتے سنا ہے کہ میرے بعد صبر کی صفت سے متصف لوگ ہی تم پر شفقت و مہربانی کریں۔ اللہ تعالیٰ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو جنت کی سلسبیل سے سیراب فرمائے۔