حدیث نمبر: 11762
عَنِ الصُّنَابِحِيِّ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَبَكَيْتُ فَقَالَ مَهْلًا لِمَ تَبْكِي فَوَاللَّهِ لَئِنِ اسْتُشْهِدْتُ لَأَشْهَدَنَّ لَكَ وَلَئِنْ شُفِّعْتُ لَأَشْفَعَنَّ لَكَ وَلَئِنِ اسْتَطَعْتُ لَأَنْفَعَنَّكَ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ مَا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَكُمْ فِيهِ خَيْرٌ إِلَّا حَدَّثْتُكُمُوهُ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا سَوْفَ أُحَدِّثُكُمُوهُ الْيَوْمَ وَقَدْ أُحِيطَ بِنَفْسِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حُرِّمَ عَلَى النَّارِ“ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ مِثْلَهُ قَالَ حَرَّمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِ النَّارَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

صنا بحی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ مرض الموت میں مبتلا تھے، ان کی حالت دیکھ کر میں رونے لگا، انہوں نے کہا: رک جاؤ، تم کیوں روتے ہو؟ اللہ کی قسم! اگر مجھ سے تمہارے بارے میں گواہی لی گئی تو میں تمہارے مومن ہونے کی گواہی دوں گا، اگر مجھے شفاعت کی اجازت دی گئی تو میں تمہارے حق میں شفاعت کروں گا اور اگر مجھ سے ہو سکا تو تمہیں نفع پہنچاؤں گا۔ ‘ پھر کہا: اللہ کی قسم میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو بھی کوئی ایسی حدیث سنی ہے جس میں تمہارے لیے بہتری ہے تو میں وہ حدیث تمہیں سنا چکا ہوں، البتہ ایک حدیث ہے، جو میں تمہیں نہیں سنا سکا، وہ تمہیں آج ابھی سناتا ہوں اور اب صورت حال یہ ہے کہ میری روح قبض کی جانے والی ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے رسول ہیں، اس پر جہنم حرام کر دی جائے گی یایوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کو حرا م کر دے گا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11762
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 29، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23087»