الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِيهِ الْوَلِيدِ عَنْ جَدِّهِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَكَانَ أَحَدَ النُّقَبَاءِ قَالَ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْعَةَ الْحَرْبِ وَكَانَ عُبَادَةُ مِنَ الِاثْنَيْ عَشَرَ الَّذِينَ بَايَعُوا فِي الْعَقَبَةِ الْأُولَى عَلَى بَيْعَةِ النِّسَاءِ فِي السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي عُسْرِنَا وَيُسْرِنَا وَمَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا وَلَا نُنَازِعُ فِي الْأَمْرِ أَهْلَهُ وَأَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍسیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ، یہ صحابی ان افراد میں سے تھے جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیعت عقبہ اولیٰ میں مدینہ منورہ میں لوگوں پر نقیب (اور نگران) مقرر فرمایا تھا، ان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے بیعت عقبہ اولیٰ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر لڑائی کی بیعت کی تھی کہ ہمیں اگر اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفاع کے لیے کسی سے جنگ بھی کرنا پڑی تو ہم اس سے دریغ نہیں کریں گے اور سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ ان بارہ نقباء میں سے تھے، جنہوں نے بیعت عقبہ اولیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر موافق اور ناموافق حالات میں پسندیدہ و ناپسندیدہ احوال میں یعنی ہر حال میں آپ کا حکم سننے اور ماننے کی بیعت کی اور اس امر کا اقرار کیا کہ ہم حکومت و اقتدار کے بارے میں اہل اقتدار سے مقابلہ نہیں کریں گے اور ہم جہاں بھی ہوں گے ہم کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا کئے بغیر حق کہیں گے۔ نیز ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر عورتوں والے امور کی طرح بیعت کی تھی۔ (ان امور کا ذکر سورۂ ممتحنہ میں ہے)۔
مَعْرُوْفٍ} (سورۂ ممتحنہ: ۱۲) یعنی: اے نبی! جب اہل ایمان خواتین آپ کے پاس آئیں تو وہ ان باتوں کی بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی اولادوں کو قتل نہیں کریں گی اور کسی پر بہتان طرازی نہیں کریں گی اور کسی معروف کام میں آپ کی حکم عدولی نہیں کریں گی۔
اس آیت میں تو خواتین کا ذکر ہے، لیکن مرد بھی ان امور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کرتے تھے۔