حدیث نمبر: 11756
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ قَاتَلَ أَخِي قِتَالًا شَدِيدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَارْتَدَّ عَلَيْهِ سَيْفُهُ فَقَتَلَهُ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ وَشَكُّوا فِيهِ رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِهِ شَكُّوا فِي بَعْضِ أَمْرِهِ قَالَ سَلَمَةُ فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَرْجُزَ بِكَ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اعْلَمْ مَا تَقُولُ قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”صَدَقْتَ“ فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَالْمُشْرِكُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا فَلَمَّا قَضَيْتُ رَجَزِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ قَالَ هَذَا“ قُلْتُ أَخِي قَالَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَرْحَمُهُ اللَّهُ“ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنَّ نَاسًا لَيَهَابُونَ أَنْ يُصَلُّوا عَلَيْهِ وَيَقُولُونَ رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا“ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ثُمَّ سَأَلْتُ ابْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ مِثْلَ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ غَيْرَ أَنَّ ابْنَ سَلَمَةَ قَالَ قَالَ مَعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَهَابُونَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ كَذَبُوا مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ“ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِإِصْبَعَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: خیبر کے دن میرے بھائی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں خوب زور دار جنگ لڑی، لیکن ہوا یوں کہ اس کی اپنی تلوار پلٹ کر اس کو آلگی اور وہ قتل ہو گیا،صحابۂ کرام نے اس بارے میں مختلف باتیں کیں اور اس کی شہادت کے بارے میں مختلف شبہات کا اظہار کیا، کسی نے کہا کہ اپنے اسلحہ سے مرا ہے اور بعض نے اس کے انجام کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر سے واپس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اجازت ہو تو میں آپ کی خدمت میں کچھ رجز پیش کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو کہا: ذرا دھیان سے بولنا۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے پڑھا: وَاللّٰہِ لَوْلَا اللّٰہُ مَا اہْتَدَیْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّیْنَا
اللہ کی قسم اگر اللہ کی رحمت اور توفیق نہ ہوتی تو ہم ہدایت نہ
پا سکتے، نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ نمازیں پڑھتے۔
یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے بالکل درست کہا ہے۔
فَـأَنْزِلَنْ سَکِینَۃً عَلَیْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَیْنَا
وَالْمُشْرِکُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَیْنَا
یا اللہ! تو ہم پر سکینت اوراطمینان نازل فرما اور اگر دشمن سے ہماری مڈ بھیڑ ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ۔ اور مشرکوں نے ہم پر ظلم کیا ہے۔
جب میں نے اپنارجز پورا کر لیاتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کلام کس کا ہے؟ میں نے عرض کیا: یہ میرے بھائی کا کلام ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پر اللہ کی رحمت ہو۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! بعض لوگ اس کے حق میں رحمت کی دعا کرتے ہوئے گھبراتے ہیں، ان کا خیال ہے کہ وہ تو اپنے ہی اسلحہ سے مرا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تو جہاد کرتے ہوئے فوت ہوا ہے۔ ابن شہاب سے مروی ہے کہ سلمہ بن اکوع کے بیٹے سے بھی اس حدیث کی بابت کا دریافت کیا تو اس نے بھی اپنے والد کی روایت سے اسی طرح بیان کیا جیسے عبدالرحمن نے بیان کیا تھا۔ البتہ سلمہ بن اکوع کے بیٹے نے یوں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ ساتھ یوں فرمایا تھا کہ وہ اس کے حق میں دعائے رحمت کرنے سے گھبراتے ہیں تو یہ جھوٹے ہیں،وہ تو جہاد کرتے ہوئے مرا ہے۔ اور آپ نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسے دوگنا اجر ملے گا۔

وضاحت:
فوائد: … حدی دوران سفر قافلے میں سے کوئی آدمی بلند آواز سے کوئی باقاعدہ شعر پڑھتا یا بے قاعدہ اور بے وزن، غیر مرتب سا کلام پڑھتا۔ اس کی آواز کے زیر و بم پراونٹ اپنے قدم اٹھاتے اور پوری تندہی کے ساتھ چلتے، ایسے کلام کو حدی اور حدی پڑھنے والے کو عربی میں حادی اردو میں حادی کو حدی خواں کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11756
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4196، 6148، ومسلم: 1802 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16503 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16617»