الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي ضَمْرَةَ بْن ثَعْلَبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا ضمرہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ حُلَّتَانِ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ فَقَالَ ”يَا ضَمْرَةُ أَتَرَى ثَوْبَيْكَ هَذَيْنِ مُدْخِلَيْكَ الْجَنَّةَ“ فَقَالَ لَئِنِ اسْتَغْفَرْتَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَقْعُدُ حَتَّى أَنْزَعَهُمَا عَنِّي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ“ فَانْطَلَقَ سَرِيعًا حَتَّى نَزَعَهُمَا عَنْهُسیدنا ضمرہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے تو یمنی لباس کے دو بیش قیمت خوبصورت کپڑے زیب تن کئے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا: ضمرہ! کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہارے یہ دو کپڑے تمہیں جنت میں لے جائیں گے؟ یہ سن کر سیدنا ضمرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ میرے حق میں مغفرت کی دعا فرمائیں تو میں جب تک ان کو اتار نہ دوں میں بیٹھوں گا نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی: یا اللہ! ضمرہ بن ثعلبہ کی مغفرت فرما۔ تو انہوں نے جلدی سے جا کر ان کپڑوں کو اتار دیا۔