حدیث نمبر: 11747
أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لِصُهَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَوْلَا ثَلَاثُ خِصَالٍ فِيكَ لَمْ يَكُنْ بِكَ بَأْسٌ قَالَ وَمَا هُنَّ فَوَاللَّهِ مَا نَرَاكَ تَعِيبُ شَيْئًا قَالَ اكْتِنَاؤُكَ بِأَبِي يَحْيَى وَلَيْسَ لَكَ وَلَدٌ وَادِّعَاؤُكَ إِلَى النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ وَأَنْتَ رَجُلٌ أَلْكَنُ وَأَنَّكَ لَا تُمْسِكُ الْمَالَ قَالَ أَمَّا اكْتِنَائِي بِأَبِي يَحْيَى فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَنَّانِي بِهَا فَلَا أَدَعُهَا حَتَّى أَلْقَاهُ وَأَمَّا ادِّعَائِي إِلَى النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ فَإِنِّي امْرُؤٌ مِنْهُمْ وَلَكِنْ اسْتُرْضِعَ لِي بِالْأَيْلَةِ فَهَذِهِ اللُّكْنَةُ مِنْ ذَاكَ وَأَمَّا الْمَالُ فَهَلْ تَرَانِي أُنْفِقُ إِلَّا فِي حَقٍّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر آپ کے اندر تین خصلتیں نہ ہوں تو آپ میں کوئی حرج نہیں ہو گا، انہوں نے دریافت کیا کہ وہ کونسی ہیں؟ اللہ کی قسم! آپ کو کسی چیز کی عیب جوئی کرتے نہیں دیکھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک تو یہ کہ آپ نے ابو یحییٰ کنیت رکھی ہوئی ہے، جبکہ آپ کی اولاد نہیں، دوسرے یہ کہ آپ نمر بن قاسط جیسے عظیم شخص کی طرف انتساب کرتے ہیں، جبکہ آپ کی حالت یہ ہے کہ آپ کی زبان میں لکنت ہے اور تیسری بات یہ کہ آپ کے پاس جتنی بھی دولت آجائے آپ اسے خرچ کر ڈالتے ہیں، اسے جمع نہیں رکھتے۔ یہ سن کر انہوں نے جواباً کہا:جہاں تک میری کنیت کا تعلق ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری یہ کنیت رکھی ہے اور اب میں آپ سے ملاقات تک یعنی مرتے دم تک اس کنیت کو ترک نہیں کروں گا۔دوسری بات کہ میں نمر بن قاسط کی طرف انتساب کرتا ہوں تو میں چونکہ انہی لوگوں میں سے ہوں، تو ان کی طرف نسبت کیوں نہ کروں؟ البتہ حقیقت یہ ہے کہ میری رضاعت أیلہ میں ہوئی ہے، یہ لکنت اسی کا اثر ہے اور باقی رہا مال کو جمع رکھنے کی بجائے خرچ کر ڈالنا۔ تو آپ کا کیا خیال ہے کہ میں اسے ناحق خرچ کرتا ہوں؟

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11747
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف علي اضطراب في متنه، زيد بن اسلم لم يدرك عمر بن الخطاب، اخرجه الطبراني في الكبير : 7297 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18942 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19150»