حدیث نمبر: 11739
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَنِي عَمِّي عَامِرٌ فَقَالَ: أَعْطِنِي سَلَاحَكَ! قَالَ: فَأَعْطَيْتُهُ قَالَ: فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَبْغِنِي سَلَاحَكَ؟ قَالَ: ((أَيْنَ سَلَاحُكَ؟)) قَالَ: أَعْطَيْتُهُ عَمِّي عَامِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ((مَا أَجِدُ شِبْهَكَ إِلَّا الَّذِي قَالَ هَبْ لِي أَخًا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي۔)) قَالَ: فَأَعْطَانِي قَوْسَهُ وَمَجَانَهُ وَثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ مِنْ كِنَانَتِهِ۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے چچا سیدنا عامر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا: اپنا اسلحہ مجھے دے دو۔ میں نے اپنے ہتھیار ان کو دے دیئے۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اپنے ہتھیار مجھے عنایت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ہتھیار کہاں ہیں؟ میں نے عرض کیا: وہ تو میں نے اپنے چچا سیدنا عامر رضی اللہ عنہ کو دے دیئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو تمہارے بارے میں وہی مثال پاتا ہوں کہ کسی نے دعا کی تھی کہ یا اللہ مجھے ایسا بھائی عطا کر جو مجھے میری اپنی جان سے بھی بڑھ کر محبوب ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی کمان،ڈھالیں اور اپنے ترکش میں سے تین تیر مجھے عطا فرمائے۔

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ضرب المثل بیان کر کے یہ اشارہ کیا ہے کہ سیدنا سلمہ نے اپنے چچا کو اپنے نفس پر ترجیح دی ہے، جبکہ خود ان کو بھی اسلحہ کی ضرورت تھی، دراصل سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کی تعریف کی جا رہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11739
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1807، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16544 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16659»