الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ سَيْدِ الْأَوْسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: اوس کے رئیس سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((لِهٰذَا الْعَبْدِ الصَّالِحِ الَّذِي تَحَرَّكَ لَهُ الْعَرْشُ وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ شُدِّدَ عَلَيْهِ فَفَرَّجَ اللّٰهُ عَنْهُ۔)) وَقَالَ مَرَّةً: ((تَفَتَّحَتْ۔)) وَقَالَ مَرَّةً: ((ثُمَّ فَرَّجَ اللّٰهُ عَنْهُ۔)) وَقَالَ مَرَّةً: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم لِسَعْدِ يَوْمَ مَاتَ وَهُوَ يُدْفَنُ۔سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ نیک بندہ ہے، جس کے لیے اللہ کا عرش جھوم اٹھا اور اس کے استقبال کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے، لیکن قبر میں اس پر ایک بار سختی کی گئی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس مشکل کو زائل کر دیا۔ اور راوی نے ایک باریوں کہا: پھر اللہ تعالیٰ نے کشادگی پید اکر دی۔ ایک دفعہ راوی نے یہ تفصیل بیان کی: جس دن سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فوت ہوئے اوران کو دفن کیا جا رہا تھا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں یہ باتیں کی تھیں۔