حدیث نمبر: 11732
عَنْ عَائِشَةَ فِي حَدِيثِهَا الطَّوِيلِ ذَكَرَ بِطُولِهِ فِي الْخَنْدَقِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ قَالَ لِسَعْدٍ: ((لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحُكْمِ رَسُولِهِ۔)) قَالَتْ: ثُمَّ دَعَا سَعْدٌ: قَالَ: اللّٰهُمَّ إِنْ كُنْتَ أَبْقَيْتَ عَلَى نَبِيِّكَ صلى الله عليه وآله وسلم مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْئًا فَأَبْقِنِي لَهَا، وَإِنْ كُنْتَ قَطَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ، قَالَتْ: فَانْفَجَرَ كَلْمُهُ وَكَانَ قَدْ بَرِئَ حَتَّى مَا يُرَى مِنْهُ إِلَّا مِثْلُ الْخُرْصِ، وَرَجَعَ إِلَى قُبَّتِهِ الَّتِي ضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَتْ: فَحَضَرَهُ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، قَالَتْ: فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ بُكَاءَ عُمَرَ مِنْ بُكَاءِ أَبِي بَكْرٍ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي، وَكَانُوا كَمَا قَالَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ: {رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ} قَالَ عَلْقَمَةُ: قُلْتُ: أَيْ أُمَّةْ! فَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم يَصْنَعُ؟ قَالَتْ: كَانَتْ عَيْنُهُ لَا تَدْمَعُ عَلَى أَحَدٍ وَلَٰكِنَّهُ كَانَ إِذَا وَجِدَ فَإِنَّمَا هُوَ آخِذٌ بِلِحْيَتِهِ۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک طویل حدیث مروی ہے، اس میں ہے: رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا:تم نے بنو قریظہ کے بارے میں ایسا فیصلہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو بھی یہی فیصلہ منظور تھا۔ اس کے بعد سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے دعا کی اور کہا: یا اللہ! اگر تو نے اپنے نبی کے لیے قریش کے ساتھ کوئی لڑائی باقی رکھی ہے تو مجھے اس میں شرکت کے لیے زندہ رکھنا اور اگر تو نے اپنے نبی اور قریش کے درمیان لڑائیوں کا سلسلہ مکمل کر دیا ہے تو مجھے اپنی طرف اٹھا لے۔اس دعا کے بعد ان کا زخم پھٹ گیا، ویسے وہ سارا ٹھیک ہو چکا تھا، البتہ اس میں سے صرف ایک انگوٹھی کے حلقہ کے برابر معمولی سا زخم باقی رہ گیا تھا۔ سعد رضی اللہ عنہ اس خیمے کی طرف واپس آئے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے نصب کرایا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے! میں اپنے حجرے ہی میں تھی اور میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے رونے کی آواز وں کو الگ الگ پہچان رہی تھی۔ ان کا آپس میں میل جول ویسا ہی تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ {رُحَمَاء ُ بَیْنَہُمْ} … وہ ایک دوسرے پر ازحد مہربان ہیں۔ (سورۂ فتح: ۲۹)سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرنے والے علقمہ نے عرض کیا: امی جان! ایسے مواقع پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طرز عمل کیا ہوتا تھا؟ انھوں نے کہا: کسی کی وفات پر آپ کی آنکھوں میں آنسو نہ آتے تھے، البتہ جب آپ غمگین ہوتے تو اپنی داڑھی مبارک کو ہاتھ میں پکڑ لیتے۔

وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیان کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وفات پر آنکھوں سے آنسو نہ بہانا، اس چیز کا تعلق غالب اور اکثر احوال سے ہے، وگرنہ فوتگی کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رونا اور آنسو بہانا ثابت ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے لخت جگر ابراہیم کے فوت ہونے پر آنسو بہانا (صحیح بخاری: ۱۳۰۳) سعد بن عبادہ کے بیمار ہونے پر ان کی تیمارداری کے لیے جانے کے موقعہ پر رونا (صحیح بخاری: ۱۳۰۴) اور جعفر، زید بن حارثہ اور عبداللہ بن رواحہ کی شہادت کی خبر ملنے پر غمگین نظر آنا (صحیح بخاری: ۱۳۰۵) ثابت ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11732
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «للحديث شواھد يصح بھا دون قولھا: كانت عينه لاتدمع علي احد ، ففيه نكارة وھذا اسناد فيه ضعف، عمرو بن علقمة مجھول، اخرجه ابن حبان: 6439، والطبراني في الكبير : 5330 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25097 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25610»