الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ سَيْدِ الْأَوْسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: اوس کے رئیس سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ: نَزَلَ أَهْلُ قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم إِلَى سَعْدٍ فَأَتَاهُ عَلَى حِمَارٍ، قَالَ: فَلَمَّا دَنَا قَرِيبًا مِنَ الْمَسْجِدِ، قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم ((قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ أَوْ خَيْرِكُمْ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ هٰؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ۔)) قَالَ: تُقْتَلُ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم ((لَقَدْ قَضَيْتَ بِحُكْمِ اللّٰهِ۔)) وَرُبَّمَا قَالَ: ((قَضَيْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ۔))سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو قریظہ کے لوگ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر راضی ہوگئے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر بلوایا، وہ گدھے پر سوار ہو کر تشریف لائے، جب وہ مسجد نبوی کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے سردار کی طرف اٹھ کر جاؤ یایوں فرمایا تم اپنے رئیس کی طرف اٹھ کر جاؤ (اور ان کو گدھے سے اتارو)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: یہ یہودی لوگ آپ سے فیصلہ کرانے پر راضی ہوئے ہیں۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا: ان کے جنگجوؤں کو قتل کر دیا جائے اور بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ نے ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ کیا ہے، (یعنی جو فیصلہ کیا ہے اللہ کو بھی وہی منظور ہے۔) اور کسی وقت سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے یوں بیان کیا: آپ نے تو بادشاہ والا فیصلہ کیا ہے۔