حدیث نمبر: 11731
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ: نَزَلَ أَهْلُ قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم إِلَى سَعْدٍ فَأَتَاهُ عَلَى حِمَارٍ، قَالَ: فَلَمَّا دَنَا قَرِيبًا مِنَ الْمَسْجِدِ، قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم ((قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ أَوْ خَيْرِكُمْ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ هٰؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ۔)) قَالَ: تُقْتَلُ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم ((لَقَدْ قَضَيْتَ بِحُكْمِ اللّٰهِ۔)) وَرُبَّمَا قَالَ: ((قَضَيْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو قریظہ کے لوگ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر راضی ہوگئے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر بلوایا، وہ گدھے پر سوار ہو کر تشریف لائے، جب وہ مسجد نبوی کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے سردار کی طرف اٹھ کر جاؤ یایوں فرمایا تم اپنے رئیس کی طرف اٹھ کر جاؤ (اور ان کو گدھے سے اتارو)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: یہ یہودی لوگ آپ سے فیصلہ کرانے پر راضی ہوئے ہیں۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا: ان کے جنگجوؤں کو قتل کر دیا جائے اور بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ نے ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ کیا ہے، (یعنی جو فیصلہ کیا ہے اللہ کو بھی وہی منظور ہے۔) اور کسی وقت سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے یوں بیان کیا: آپ نے تو بادشاہ والا فیصلہ کیا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … غزوۂ خندق کے موقع پر بنو قریظہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عہد شکنی کی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے جرم کی پاداش میں ان کا محاصرہ کر لیا تو وہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر راضی ہو گئے، لیکن بیچاروں کو کیا پتہ کہ اپنی ہی چھری سے اپنا گلا کاٹ رہے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11731
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4121،ومسلم: 1768، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11168 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11185»