حدیث نمبر: 11725
حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: أَخْبَرَنِي وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَكَانَ وَاقِدٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَأَعْظَمِهِمْ وَأَطْوَلِهِمْ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقَالَ لِي: مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: أَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: إِنَّكَ بِسَعْدٍ أَشْبَهُ ثُمَّ بَكَى وَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ، فَقَالَ: رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَى سَعْدٍ، كَانَ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِهِمْ، ثُمَّ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم جَيْشًا إِلَى أُكَيْدِرَ دُومَةَ، فَأَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم بِجُبَّةٍ مِنْ دِيبَاجٍ مَنْسُوجٍ فِيهَا الذَّهَبُ، فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم فَقَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ أَوْ جَلَسَ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ، ثُمَّ نَزَلَ فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْمِسُونَ الْجُبَّةَ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم ((أَتَعْجَبُونَ مِنْهَا۔)) قَالُوا: مَا رَأَيْنَا ثَوْبًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم ((لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِمَّا تَرَوْنَ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

محمد بن عمرو سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ نے مجھے بیان کیا، جبکہ وہ انتہائی حسین و جمیل ، عظیم الجثہ اور دراز قامت آدمی تھے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ میں کون ہوں۔ میں نے عرض کیا:میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ ہوں۔ انھوں نے کہا: تم تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے مشابہ ہو، اس کے بعد وہ رونے لگے اور بہت زیادہ روئے اور کہا: سعد رضی اللہ عنہ پر اللہ کی رحمت ہو، وہ سب سے بڑھ کر جسیم اور طویل قامت تھے۔ پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دومہ کے والی اکیدر کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جبہ ارسال کیا، جس پر سونے کی کڑھائی کی گئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے زیب تن فرمایا اور منبر پر کھڑے ہوئے یا بیٹھے، آپ نے کچھ گفتگو نہ کی اور ویسے ہی نیچے اتر آئے۔ لوگ اس جبہ کو ہاتھ لگا لگا کر دیکھنے لگے (اور اس کی عمدگی پرتعجب کرنے لگے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس جبہ پر تعجب کرتے ہو؟ صحابۂ کرام نے عرض کیا: جی کیوں نہیں، ہم نے اس سے اچھا کپڑا کبھی نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جو کپڑا دیکھ رہے ہو، جنت میں سعد رضی اللہ عنہ کے رومال اس سے بھی زیادہ قیمتی ہیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11725
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه مختصرا البخاري: 2616 معلقا ،ومسلم: 2469، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12223 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12248»