الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَاصِ وَيُقَالُ لَهُ أَيْضًا: سَعْدُ بْنُ مَالِكِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا تذکرہ، ان کو سعد بن مالک رضی اللہ عنہ بھی کہا جاتا ہے
عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ يُحَدِّثُ: أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تُحَدِّثُ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم سَهِرَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهِيَ إِلَى جَنْبِهِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا شَأْنُكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَتْ: فَقَالَ: ((لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِي يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ۔)) قَالَ: ((فَبَيْنَمَا أَنَا عَلَى ذَٰلِكَ إِذْ سَمِعْتُ صَوْتَ السِّلَاحِ۔)) فَقَالَ: ((مَنْ هٰذَا؟)) قَالَ: أَنَا سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ، فَقَالَ: ((مَا جَاءَ بِكَ۔)) قَالَ: جِئْتُ لِأَحْرُسَكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ!، قَالَتْ: فَسَمِعْتُ غَطِيطَ رَسُولِ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم فِي نَوْمِهِ۔عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کیا کرتی تھیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نیند نہیں آرہی تھی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں تھیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! کیا بات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کاش میرے صحابہ میں سے کوئی نیک آدمی آج رات میرا پہرہ دیتا۔ میں ابھی انہی خیالات میں ہی تھی کہ میں نے اسلحہ کی آوازیں سنیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کون ہے؟ آنے والے نے کہا: اے ا للہ کے رسول! میں سعد بن مالک ہوں، آپ کا پہرہ دینے کی سعادت حاصل کرنے آیا ہوں۔ (اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر سکون سے ہوئے کہ) سیدہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: اس کے بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سوتے ہوئے خراٹے لیتے سنا۔