حدیث نمبر: 11721
عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ أُنْزِلَتْ فِي أَبِي أَرْبَعُ آيَاتٍ قَالَ: قَالَ أَبِي أَصَبْتُ سَيْفًا قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! نَفِّلْنِيهِ، قَالَ: ((ضَعْهُ۔)) قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! نَفِّلْنِيهِ، أُجْعَلْ كَمَنْ لَا غَنَاءَ لَهُ، قَالَ: ((ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ۔)) فَنَزَلَتْ: {يَسْأَلُونَكَ الْأَنْفَالَ} قَالَ: وَهِيَ فِي قِرَاءَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ كَذَٰلِكَ {قُلِ الْأَنْفَالُ} وَقَالَتْ أُمِّي: أَلَيْسَ اللّٰهُ يَأْمُرُكَ بِصِلَةِ الرَّحِمِ وَبِرِّ الْوَالِدَيْنِ، وَاللّٰهِ! لَا آكُلُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ، فَكَانَتْ لَا تَأْكُلُ حَتَّى يَشْجُرُوا فَمَهَا بِعَصًا فَيَصُبُّوا فِيهِ الشَّرَابَ، قَالَ شُعْبَةُ: وَأُرَاهُ قَالَ: وَالطَّعَامَ، فَأُنْزِلَتْ: {وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ} وَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ {بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ} وَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم وَأَنَا مَرِيضٌ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ فَنَهَانِي، قُلْتُ: النِّصْفُ، قَالَ: ((لَا۔)) قُلْتُ: الثُّلُثُ، فَسَكَتَ فَأَخَذَ النَّاسُ بِهِ وَصَنَعَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ طَعَامًا فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا وَانْتَشَوْا مِنَ الْخَمْرِ، وَذَاكَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ، فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَهُ فَتَفَاخَرُوا وَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: الْأَنْصَارُ خَيْرٌ، وَقَالَتِ الْمُهَاجِرُونَ: الْمُهَاجِرُونَ خَيْرٌ، فَأَهْوَى لَهُ رَجُلٌ بِلَحْيَيْ جَزُورٍ فَفَزَرَ أَنْفَهُ، فَكَانَ أَنْفُ سَعْدٍ مَفْزُورًا فَنَزَلَتْ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ} إِلَى قَوْلِهِ {فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ} [المائدة: 90-91]۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) کے بارے میں چار آیات نازل ہوئی ہیں،میرے والد نے کہا: (غزوہ بدر کے ! اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سعد بن ابی وقاص بالکل ابتدائی مسلمان ہونے والوں میں سے ہیں۔ (بخاری: ۳۷۲۷) کی ایک روایت کے مطابق انہوں نے اپنے آپ کو ثلث الاسلام بھی قرار دیا ہے۔ دوران) مجھے ایک تلوار ملی، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ یہ تلوار مجھے زائد حصہ کے طور پر دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے رکھ دو۔ میں نے عرض کیا :اللہ کے رسول! آپ یہ تلوار تو مجھے میرے حصہ سے زائد کے طور پر عنایت فرما دیں، بس آپ مجھے یوں سمجھیں کہ میرا اس کے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے یہ جہاں سے اٹھائی ہے، وہیں رکھ دو۔ اس موقع پر آیت نازل ہوئی: {یَسْأَلُونَکَ الْأَنْفَالَ قُلِ الْأَنْفَالُ} یہ قراء ت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی ہے، (جبکہ قرآن کریم کی متواتر قرأت میں یَسْأَلُوْنَکَ عَنِ الْأَنْفَالِ ہے)۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میری والدہ نے کہا: کیا اللہ آپ کو صلہ رحمی اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم نہیں دیتا؟ اللہ کی قسم! میں اس وقت تک نہ کچھ کھاؤں گی اور نہ پیوں گی جب تک تم محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے ساتھ کفر نہیں کرو گے، پس وہ کچھ نہیں کھاتی تھی،یہاں تک کہ گھر والے لکڑی کے ذریعے اس کے منہ کو کھول کر رکھتے اور وہ اس میں پینے کی کوئی چیز ڈالتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ میر ے شیخ سماک بن حرب نے کھانے کا بھی ذکر کیا تھا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی: {وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حَمَلَتْہُ اُمُّہ وَہْنًا عَلٰی وَہْنٍ وَّفِصٰلُہ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْکُرْ لِیْ وَلِوَالِدَیْکَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۔ وَاِنْ جَاہَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖعِلْمٌفَلَاتُطِعْہُمَاوَصَاحِبْہُمَافِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا ْ وَّاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔} … اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین کا حق پہچاننے کی خود تاکید کی ہے۔ اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال اس کا دودھ چھوٹنے میں لگے۔ (اسی لیے ہم نے اس کو نصیحت کی کہ) میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجا لا، میری ہی طرف تجھے پلٹنا ہے۔لیکن وہ اگر دباؤ ڈالیں کہ میرے ساتھ تو کسی ایسے کو شریک کرے جسے تو نہیں جانتا تو ان کی بات ہرگز نہ مان۔ دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا رہ مگر پیروی اس شخص کے راستے کی کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔ پھر تم سب کو پلٹنا میری ہی طرف ہے،اس وقت میں تمہیں بتا دوں گا کہ تم کیسے عمل کرتے رہے تھے۔ (سورۂ لقمان: ۱۴،۱۵) سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں بیمار تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنے سارے مال کی (اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی ) وصیت کر سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: آدھے مال کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے پوچھا: ایک تہائی کی۔ آپ یہ بات سن کر خاموش ہو گئے اور لوگوں نے اسی پر عمل شروع کر دیا، ایک انصاری نے کھانے کی دعو ت کی، لوگوں نے وہاں کھانا کھایا اور شراب پی کر نشے میں مست ہوگئے، یہ حرمت ِ شراب سے پہلے کی بات ہے، ہم اس کے ہاں جمع ہوئے، لوگ ایک دوسرے پر تفاخر کا اظہار کرنے لگے، انصار نے کہا کہ ہم افضل ہیں اور مہاجرین کہنے لگے کہ ہم افضل ہیں، ایک آدمی نے اونٹ کا جبڑا اٹھا کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو دے مارا اور ان کی ناک کو چیر ڈالا، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی ناک چیری ہوئی تھی۔ اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ۔ اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطَانُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَاءَ فِیْ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَھُوْنَ} … اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور شرک کے لیے نصب کردہ چیزیں اور فال کے تیر سراسر گند ہیں، شیطان کے کام سے ہیں، سو اس سے بچو، تاکہ تم فلاح پاؤ،شراب اور جوئے کے ذریعے شیطان تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈالنا اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے غافل کرنا چاہتا ہے۔ تو کیا تم ان دونوں کاموں سے باز نہیں آؤ گے؟ (سورۂ مائدہ: ۹۰، ۹۱)

وضاحت:
فوائد: … حافظ ابن کثیر نے (کتاب العشرۃ للطبرانی) کا حوالہ دے کر یہ روایت ذکر کی ہے: سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے، میں اپنی ماں کی بہت خدمت کیا کرتا تھا اور ان کا پورا اطاعت گزار تھا۔ جب مجھے اللہ نے اسلام کی طرف ہدایت کی تو میری والدہ مجھ پر بہت بگڑیں اور کہنے لگی: بچے یہ نیا دین تو نے کہاں سے نکال لایا۔ سنو میں تمہیں حکم دیتی ہوں کہ اس دین سے دستبردار ہو جاؤ،ورنہ میں نہ کھاؤں گی، نہ پیوںگی اور یونہی بھوکی مرجاؤں گی۔ میں نے تو اسلام کو چھوڑا نہیں، لیکن میری ماں نے واقعی کھانا پینا ترک کردیا اور لوگ ہر طرف سے مجھ پر آوازے کسنے لگے کہ یہ اپنی ماں کا قاتل ہے۔ میں دل میں بہت ہی تنگ ہوا اور اپنی والدہ کی خدمت میں باربار عرض کیا، خوشامدیں کیں، سمجھایا کہ اللہ کے لئے اپنی ضد سے باز آجاؤ، یہ تو ناممکن ہے کہ میں اس سچے دین کو چھوڑ دوں۔ اسی ضد میں میری والدہ پر تین دن کا فاقہ گذرگیا اور اس کی حالت بہت ہی خراب ہوگئی، میں پھر اس کے پاس گیا اور میں نے کہا: میری اچھی اماں جان! سنو تم مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہو، لیکن میرے دین سے زیادہ عزیز نہیں ہو۔ اللہ کی قسم! ایک نہیں، تمہاری ایک سوجانیں بھی ہوں اور اسی بھوک پیاس میں ایک ایک کرکے سب نکل جائیں، تو بھی میں آخری لمحہ تک اپنے سچے دین اسلام کو نہ چھوڑوں گا۔ اب میری ماں مایوس ہو چکی تھی اور کھانا پینا شروع کردیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11721
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1748، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1567 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1567»