الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَاصِ وَيُقَالُ لَهُ أَيْضًا: سَعْدُ بْنُ مَالِكِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا تذکرہ، ان کو سعد بن مالک رضی اللہ عنہ بھی کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 11719
(وَعَنْهُ بِلَفْظٍ آخَرَ) قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَابِعَ سَبْعَةٍ وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقَ الْحُبْلَةِ حَتَّى أَنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ مَا يُخَالِطُهُ شَيْءٌ ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ يُعَزِّرُونِّي عَلَى الْإِسْلَامِ لَقَدْ خَسِرْتُ إِذًا وَضَلَّ سَعْيِيترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری روایت) سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے خود کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دیکھا، میں مسلمان ہونے والے گروہ میں ساتواں1 فرد تھا، ہمارے پاس خوراک کے طور پر صرف خاردار درختوں کے پتے تھے ا ور ہم قضائے حاجت کرتے تو بکریوں کی طرح مینگنیاں کرتے تھے اور یہ فضلہ لیس دار نہیں ہوتا تھا،لیکن اب بنو اسد اسلام کے بارے میں مجھ پر طنز کرتے ہیں، اگر ان کی بات درست ہو تو میں تو خسارے میں رہا اور میرے سارے اعمال اکارت گئے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کوفہ کے والی تھے، لیکن کوفہ والوں نے یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ شکایت کی تھی کہ ان کا والی اچھے انداز میں نماز نہیں پڑھاتا، سیدنا سعد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِن حجتی لوگوں کی اس شکایت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔