الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
مَا جَاءَ فِي السَّائِبِ بْن عَبْدِ اللَّهِ وَيُقَالُ لَهُ: السَّائِبُ بنُ أَبِي السَّائِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا سائب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ، ان کو سائب بن ابو سائب بھی کہتے ہیں
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي السَّائِبِ أَنَّهُ كَانَ يُشَارِكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْإِسْلَامِ فِي التِّجَارَةِ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ جَاءَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَرْحَبًا بِأَخِي وَشَرِيكِي“ (وَفِي رِوَايَةٍ ”كُنْتَ شَرِيكِي وَكُنْتَ خَيْرَ شَرِيكٍ“) ”كَانَ لَا يُدَارِي وَلَا يُمَارِي يَا سَائِبُ قَدْ كُنْتَ تَعْمَلُ أَعْمَالًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَا تُقْبَلُ مِنْكَ وَهِيَ الْيَوْمَ تُقْبَلُ مِنْكَ“ وَكَانَ ذَا سَلَفٍ وَصِلَةٍسیدنا سائب بن ابی سائب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اسلام سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر تجارت کیا کرتے تھے، مکہ فتح ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھ کر فرمایا: میں اپنے بھائی اور شریک کار کو مرحبا کہتا ہوں۔ دوسری روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے شریک کار تھے اور بہترین شریک کار تھے، وہ کسی بھی معاملے میں اختلاف اور جھگڑانہیں کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے سائب! تم جاہلیت میں بہت اچھے عمل کرتے رہے، مگر وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول نہیں ہوتے تھے،، اب تمہاری طرف سے ایسے اعمال اللہ کے ہاں قبول ہوں گے۔ سیدنا سائب رضی اللہ عنہ لوگوں کو ادھار اور ادائیگی میں مہلت دیا کرتے اور صلہ رحمی کیا کرتے تھے۔