الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
مَا جَاءَ فِي السَّائِبِ بْن عَبْدِ اللَّهِ وَيُقَالُ لَهُ: السَّائِبُ بنُ أَبِي السَّائِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا سائب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ، ان کو سائب بن ابو سائب بھی کہتے ہیں
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ السَّائِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جِيءَ بِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ جَاءَ بِي عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَزُهَيْرٌ فَجَعَلُوا يُثْنُونَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تُعْلِمُونِي بِهِ قَدْ كَانَ صَاحِبِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ“ قَالَ قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَنِعْمَ الصَّاحِبُ كُنْتَ قَالَ فَقَالَ ”يَا سَائِبُ انْظُرْ أَخْلَاقَكَ الَّتِي كُنْتَ تَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَاجْعَلْهَا فِي الْإِسْلَامِ أَقْرِ الضَّيْفَ وَأَكْرِمِ الْيَتِيمَ وَأَحْسِنْ إِلَى جَارِكَ“سیدنا سائب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: فتح مکہ والے روز مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، سیدنا عثمان بن عفان اور سیدنا زہیر مجھے لے کر آئے تھے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے میری تعریف و توصیف کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس کے بارے میں مجھے بتلانے کی ضروت نہیں،یہ قبل از اسلام میرے ساتھی تھے۔ سیدنا سائب رضی اللہ عنہ نے بھی کہا: آپ کے رسول نے بالکل درست فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہترین رفیق تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سائب! تم اپنے اسلام سے پہلے والے اخلاق پر نظر رکھنا اور اسلام میں بھی وہی اخلاق اپنائے رکھنا، مہمانوں کی مہمان نوازی کیا کرو، یتیموں کا اکرام کیا کرو اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے رہو۔