الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11707
عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تُحْسِنُ السُّرْيَانِيَّةَ إِنَّهَا تَأْتِينِي كُتُبٌ“ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ ”فَتَعَلَّمْهَا“ فَتَعَلَّمْتُهَا فِي سَبْعَةَ عَشَرَ يَوْمًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم سریانی زبان اچھی طرح جانتے ہو؟ میر ے پاس اس زبان میں خطوط آتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: جی نہیں، آپ نے فرمایا: تو پھر تم اس زبان کو اچھی طرح سیکھ لو۔ پس میں نے سترہ دنوں میں یہ زبان اچھی طرح سیکھ لی۔
وضاحت:
فوائد: … مدینہ میں سریانی زبان جاننے والے یہودی تھے، جب اس زبان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی خط موصول ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہودیوں سے مدد لینا پڑھتی کہ اس میں کیا لکھا ہے اور اس کا کیا جواب دینا ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس قوم پر اعتماد بھی نہیں تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کیذمہ داری لگائی کہ وہ اس زبان کی تعلیم حاصل کریں، انھوں نے پندرہ سولہ دنوں میں یہ ذمہ داری پوری کر دی۔