الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11703
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِابْنِهِ عَبْدِ اللَّهِ يَا بُنَيَّ أَمَا وَاللَّهِ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيَجْمَعُ لِي أَبَوَيْهِ جَمِيعًا يُفْدِينِي بِهِمَا يَقُولُ ”فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے اپنے بیٹے عبداللہ سے کہا: میرے پیارے بیٹے ! اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے مخاطب ہوتے ہوئے اپنے والدین کا ذکر کرکے فرمایا کرتے تھے: تجھ پر میرے والدین قربان ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … بڑی شان ہے اس فردِ عظیم کی کہ جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں خطاب کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والدین اس پر قربان ہوں، لیکن بعض دیگر صحابہ کی مثالیں بھی موجود ہیں، ان کے حق میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والدین فدا ہوں، دیکھیں حدیث نمبر (۱۱۷۱۶)