الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11702
عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ اسْتَأْذَنَ ابْنُ جُرْمُوزٍ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالُوا ابْنُ جَرْمُوزٍ يَسْتَأْذِنُ قَالَ ائْذَنُوا لَهُ لِيَدْخُلْ قَاتِلُ الزُّبَيْرِ النَّارَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ الْمُتَقَدِّمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زر بن جیش سے روایت ہے کہ ابن جرموز نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاں آنے کی اجازت طلب کی، انھوں نے دریافت کیا: کون ہے ؟ لوگوں نے بتلایا کہ ابن جرموز آنے کی اجازت طلب کر رہا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے آنے دو، زبیر کا قاتل ضرور بالضرور جہنم رسید ہوگا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہتے سنا، پھر سابق حدیث کی طرح کی حدیث بیان کی۔
وضاحت:
فوائد: … جنگ جمل میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مخالف تھے، جب ان دونوں کی ملاقات ہوئی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو یہ حدیثیاد کرائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اے زبیر!)خبردار! تو علی کی مخالفت میں نکلے گا اور تو اس سے لڑے گا، جبکہ تو ظالم ہو گا۔ یہ سن کر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ لڑائی سے رک گئے اور وہاں سے واپس پلٹ گئے، عمرو بن جرموز نے وادیٔ سباع میں ان کو پا لیا اور دھوکے سے قتل کر دیا، پھر ان کی تلوار اور سر لے کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا، اس سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بہت غم اور رنج ہوا تھا اور انھوں نے اس کو جہنم کی خوشخبری سنائی تھی۔