الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
بَابٌ فِي كَوْنِ الْإِسْلَامِ يَجُبُّ مَا قَبْلَهُ مِنَ الذُّنُوبِ وَكَذَا الْهِجْرَةُ وَ هَلْ يُؤَاخَذُ بِأَعْمَالِ الْجَاهِلِيَّةِ وَ بَيَانُ حُكْمِ عَمَلِ الْكَافِرِ إِذَا أَسْلَمَ بَعْدَهُ باب: اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا أَلْقَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَلْبِيَ الْإِسْلَامَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيُبَايِعَنِي فَبَسَطَ يَدَهُ إِلَيَّ فَقُلْتُ: لَا أُبَايِعُكَ حَتَّى يُغْفَرَ لِي مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِي، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا عَمْرُو! أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْهِجْرَةَ تَجُبُّ مَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ، يَا عَمْرُو! أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ يَجُبُّ مَا قَبْلَهُ مِنَ الذُّنُوبِ))سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کا خیال ڈال دیا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیعت کرنے کے لیے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میری طرف پھیلا دیا، لیکن اس وقت میں نے کہا: ”میں اس وقت تک آپ کی بیعت نہیں کروں گا، جب تک میرے سابقہ گناہ بخش نہ دیے جائیں،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمرو! کیا تو نہیں جانتا کہ ہجرت پہلے والے گناہوں کو ختم کر دیتی ہے، عمرو! کیا تجھے یہ علم نہیں ہے کہ اسلام بھی پہلے والے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔“
معلوم ہوا کہ اسلام اور ہجرت کی وجہ سے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، مزید تفصیل آگے آ رہی ہے۔