حدیث نمبر: 11690
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَحْدَهُ عَيْنًا إِلَى قُرَيْشٍ قَالَ جِئْتُ إِلَى خَشَبَةِ خُبَيْبٍ وَأَنَا أَتَخَوَّفُ الْعُيُونَ فَرَقِيتُ فِيهَا فَحَلَلْتُ خُبَيْبًا فَوَقَعَ إِلَى الْأَرْضِ فَانْتَبَذْتُ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ الْتَفَتُّ فَلَمْ أَرَ خُبَيْبًا وَلَكَأَنَّمَا ابْتَلَعَتْهُ الْأَرْضُ فَلَمْ يُرَ لِخُبَيْبٍ أَثَرٌ حَتَّى السَّاعَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس اکیلے کو قریش کی طرف جاسوس کی حیثیت سے روانہ کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اس لکڑی کے پاس آیا، جس پر خبیب رضی اللہ عنہ کو لٹکایا گیا تھا۔ مجھے قریش کا بھی ڈر تھا کہ کہیں وہ مجھے دیکھ نہ لیں، میں اس لکڑی پر چڑھ گیا، میں نے خبیب رضی اللہ عنہ کی رسی کو کھولا، وہ زمین پر گرے۔ جب میں نے ان کی طرف دھیان کیا تو خبیب رضی اللہ عنہ کا جسم مجھے دکھائی نہیں دیا،یوں لگتا ہے زمین ان کو نگل گئی، اب تک ان کے جسم کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11690
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، فيه عدة علل: ابراهيم بن اسماعيل الانصاري ضعيف، وقد اضطرب فيه، وجعفر بن عمرو مجھول، والاسناد منقطع لان جعفر بن عمر لم يدرك عمرو بن امية اخرجه الطبراني في الكبير : 4193 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17252 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17384»