الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ حُبَيْبِ الْأَنْصَارِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا خبیب انصاری رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَحْدَهُ عَيْنًا إِلَى قُرَيْشٍ قَالَ جِئْتُ إِلَى خَشَبَةِ خُبَيْبٍ وَأَنَا أَتَخَوَّفُ الْعُيُونَ فَرَقِيتُ فِيهَا فَحَلَلْتُ خُبَيْبًا فَوَقَعَ إِلَى الْأَرْضِ فَانْتَبَذْتُ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ الْتَفَتُّ فَلَمْ أَرَ خُبَيْبًا وَلَكَأَنَّمَا ابْتَلَعَتْهُ الْأَرْضُ فَلَمْ يُرَ لِخُبَيْبٍ أَثَرٌ حَتَّى السَّاعَةِسیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس اکیلے کو قریش کی طرف جاسوس کی حیثیت سے روانہ کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اس لکڑی کے پاس آیا، جس پر خبیب رضی اللہ عنہ کو لٹکایا گیا تھا۔ مجھے قریش کا بھی ڈر تھا کہ کہیں وہ مجھے دیکھ نہ لیں، میں اس لکڑی پر چڑھ گیا، میں نے خبیب رضی اللہ عنہ کی رسی کو کھولا، وہ زمین پر گرے۔ جب میں نے ان کی طرف دھیان کیا تو خبیب رضی اللہ عنہ کا جسم مجھے دکھائی نہیں دیا،یوں لگتا ہے زمین ان کو نگل گئی، اب تک ان کے جسم کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیا۔