الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى خَبَّابٍ وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعًا فَقَالَ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ“ لَتَمَنَّيْتُهُ وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَمْلِكُ دِرْهَمًا وَإِنَّ فِي جَانِبِ بَيْتِي الْآنَ لَأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ قَالَ ثُمَّ أُتِيَ بِكَفَنِهِ فَلَمَّا رَآهُ بَكَى قَالَ لَكِنَّ حَمْزَةَ لَمْ يُوجَدْ لَهُ كَفَنٌ إِلَّا بُرْدَةٌ مَلْحَاءُ إِذَا جُعِلَتْ عَلَى رَأْسِهِ قَلَصَتْ عَنْ قَدَمَيْهِ وَإِذَا جُعِلَتْ عَلَى قَدَمَيْهِ قَلَصَتْ عَنْ رَأْسِهِ حَتَّى مُدَّتْ عَلَى رَأْسِهِ وَجُعِلَ عَلَى قَدَمَيْهِ الْإِذْخِرُحارثہ بن مضرب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا، وہ ایک بیماری کے علاج کے سلسلہ میں سات داغ لگوا چکے تھے، مگر کچھ افاقہ نہ ہوا تھا، انھوں نے کہا:اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ تم میں سے کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے۔ تو میں ضرور موت کی تمنا کرتا ۔ میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اس حال میں دیکھا ہے کہ میرے پاس ایک بھی درہم نہیں ہوتا تھا اور اب یہ حال ہے کہ میرے گھر کے ایک کونے میں چالیس ہزار درہم موجود ہیں، اس کے بعد ان کے پاس ان کا کفن لایا گیا، وہ اسے دیکھ کر رونے لگے اور پھر کہا: ہمارے پاس ایسا کفن موجود ہے۔ لیکن سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بھی تھے کہ ان کے کفن کے لیے محض ایک دھاری دار چادر تھی،ان کے سر پر ڈالی جاتی تو ان کے پاؤں ننگے ہو جاتے اور جب ان کے پاؤں پر ڈالی جاتی تو سر سے اتر جاتی، بالآخر اسے ان کے سر پر ڈال دیا گیا اور ان کے پاؤں پر اذخرڈال دی گئی۔