حدیث نمبر: 11681
عَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَقَدَ لِخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ عَلَى قِتَالِ أَهْلِ الرِّدَّةِ وَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ وَأَخُو الْعَشِيرَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ سَلَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى الْكُفَّارِ وَالْمُنَافِقِينَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مرتدین کے مقابلے کے لیے مقرر فرمایا اور کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے سنا کہ ’’خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اللہ کا بہترین بندہ اور قوم کا بہترین فرد ہے ، یہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے کفار اور منافقین پر مسلط کیا ہے ۔‘‘

وضاحت:
فوائد: … یہ دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11681
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بشواھده، اخرجه الطبراني: 3798، والحاكم: 3/ 298 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 43 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 43»