الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي حَنْظَلَةَ بْن حُدّيم رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا حنظلہ بن حذیم رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
عَنْ ذَيَّالِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ عَنْ جَدِّ حَنْظَلَةَ بْنِ حِذْيَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَاهُ دَنَا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لِي بَنِينَ ذَوِي لِحًى وَدُونَ ذَلِكَ وَإِنَّ ذَا أَصْغَرُهُمْ فَادْعُ اللَّهَ لَهُ فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَقَالَ ”بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ أَوْ بُورِكَ فِيهِ“ قَالَ ذَيَّالٌ فَلَقَدْ رَأَيْتُ حَنْظَلَةَ يُؤْتَى بِالْإِنْسَانِ الْوَارِمِ وَجْهُهُ أَوِ الْبَهِيمَةِ الْوَارِمَةِ الضَّرْعِ فَيَتْفُلُ عَلَى يَدَيْهِ وَيَقُولُ بِسْمِ اللَّهِ وَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ وَيَقُولُ عَلَى مَوْضِعِ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَمْسَحُهُ عَلَيْهِ وَقَالَ ذَيَّالٌ فَيَذْهَبُ الْوَرَمُسیدنا حنظلہ بن حذیم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے ان کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب جا بٹھایا اور عرض کیا: میرے بیٹے باریش یعنی بڑی عمر کے بھی ہیں اور ان سے چھوٹے بھی ہیں،یہ سب سے چھوٹا ہے، آپ اللہ تعالیٰ سے اس کے حق میں دعا فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اللہ تمہارے اندر برکت فرمائے۔ ذیال کہتے ہیں: میں نے سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کو دیکھاکہ جب کسی آدمی کا چہرہ یا جانور کا تھن متورم ہو جاتا اور ایسے آدمی یا جانور کو سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا جاتا اور وہ بسم اللہ کہہ کر اپنے سر کے اس حصے پر ہاتھ لگاتے، جہاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ہتھیلی مبارک رکھی تھی اور اس کے بعد وہ اپنا ہاتھ اس بیمار آدمی یا جانور پر پھیرتے تو اس کا ورم زائل ہو جاتا۔