الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي حَسَّانَ بْن ثَابِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11679
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ ”اهْجُ الْمُشْرِكِينَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم مشرکین کی ہجو کا جواب دو، جبریل تمہارے ساتھ ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ شاعر اسلام اور شاعر رسول تھے، وہ اپنے کلام کے زور پر دشمنانِ رسول کو لاجواب کر دیتے تھے، اس سلسلے میں ان کو جبریل علیہ السلام کا تعاون بھی حاصل تھا۔
عہد نبوی میں دشمنوں کے حوصلے پست کرنے کے لیے اشعار کے ذریعے ان کی مذمت کی جاتی تھی اور یہ شعری مجموعے ان پر قیامت بن کر برستے تھے، جیسا کہ سیدنا کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَکَأَنَّمَا تَنْضَحُوْنَھُمْ بِالنَّبْلِ فِیْمَا تَقُوْلُوْنَ لَھُمْ مِنَ الشِّعْرِ۔)) (صحیحہ:۱۹۴۹) … اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! (دشمنوں کی مذمت کرتے ہوئے)جو تم شعر کہتے ہو یہ (ان پر) تیر برسانے کی طرح ہیں۔
عہد نبوی میں دشمنوں کے حوصلے پست کرنے کے لیے اشعار کے ذریعے ان کی مذمت کی جاتی تھی اور یہ شعری مجموعے ان پر قیامت بن کر برستے تھے، جیسا کہ سیدنا کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَکَأَنَّمَا تَنْضَحُوْنَھُمْ بِالنَّبْلِ فِیْمَا تَقُوْلُوْنَ لَھُمْ مِنَ الشِّعْرِ۔)) (صحیحہ:۱۹۴۹) … اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! (دشمنوں کی مذمت کرتے ہوئے)جو تم شعر کہتے ہو یہ (ان پر) تیر برسانے کی طرح ہیں۔