حدیث نمبر: 11673
عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَتْ لِي أُمِّي مَتَى عَهْدُكَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقُلْتُ مَا لِي بِهِ عَهْدٌ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَهَمَّتْ بِي قُلْتُ يَا أُمَّهْ دَعِينِي حَتَّى أَذْهَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَدَعُهُ حَتَّى يَسْتَغْفِرَ لِي وَيَسْتَغْفِرَ لَكِ قَالَ فَجِئْتُهُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَامَ يُصَلِّي فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّي حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ خَرَجَ وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ قَالَ ”مَا لَكَ“ فَحَدَّثْتُهُ بِالْأَمْرِ فَقَالَ ”غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَلِأُمِّكَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، میری والدہ نے مجھ سے دریافت کیا کہ تمہاری نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کب ہوئی تھی؟ میں نے عرض کیا کہ میں تو اتنے عرصہ سے آپ سے ملاقات نہیں کر سکا، انہوں نے مجھے سخت سست کہا۔ میں نے عرض کیا: امی جان! آپ اجازت دیں تاکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جاؤں اور میں اس وقت ان کو چھوڑ کر الگ نہ ہوں گا، جب تک وہ میرے اور آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں دعائے مغفرت نہ کریں، چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں نماز مغرب ادا کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ کھڑے ہو کر مزید نفل نماز ادا کرنے لگے یہاں تک کہ آپ نے نماز عشاء ادا کی۔ اس کے بعد آپ باہر تشریف لے چلے۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں:آپ نے مجھ سے دریافت فرمایا: کیا بات ہے؟ میں نے سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا کی: اللہ تعالیٰ تمہاری اور تمہاری والدہ کی مغفرت فرمائے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11673
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه الترمذي: 3781 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23436 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23829»