حدیث نمبر: 11672
قَالَ جَاءَ عَبْدٌ لِحَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَحَدُ بَنِي أَسَدٍ يَشْتَكِي سَيِّدَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّارَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”كَذَبْتَ لَا يَدْخُلُهَا إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کا ایک غلام، جو بنی اسد کے قبیلہ سے تھا، آیا اور اپنے مالک کی شکایت کرتے ہوئے کہا: اللہ کے رسول! حاطب ضرور جہنم میں جائے گا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم غلط کہتے ہو، وہ تو بدر اور حدیبیہ میں شرکت کی سعادت حاصل کر چکا ہے، (جبکہ بدر اور حدیبیہ میں شرکت کرنے والے جہنم میں نہیں جائیں گے)۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ چونکہ بدر اور حدیبیہ میں شرکت کر چکے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو جنتی قرار دیا تھا، باقی پھر بھی انسان سے خطا اور غلطی سرزد ہو جاتی ہے۔
صحابۂ کرام سے غلطی کا سرزد ہونا ممکن ہے، لیکن ان کی معیاری نیکیوں کے سمندر ان کی خطاؤں پر غالب آ جائیں گے۔ ان شاء اللہ تعالی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11672
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2195، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14771 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14830»