حدیث نمبر: 11669
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ جَالِسٌ فِي الْمَقَاعِدِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ أَجَزْتُ فَلَمَّا رَجَعْتُ وَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”هَلْ رَأَيْتَ الَّذِي كَانَ مَعِي“ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ”فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ وَقَدْ رَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبریل علیہ السلام کے ساتھ (مسجد کے قریب) المقاعد جگہ میں بیٹھے تھے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا اور میں آگے گزر گیا، جب میں واپس آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی وہاں سے واپس ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ بیٹھے آدمی کو تم نے دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام تھے اور انہوں نے تمہارے سلام کا جواب دیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ نے جبریل علیہ السلام کو انسانی شکل میں دیکھا، لیکن ان کو بعد میں پتہ چلا کہ وہ جبریل رضی اللہ عنہ تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11669
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه عبدالرزاق: 20545، والطبراني في الكبير : 3226 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23677 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24077»