الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلٍ حَارِثَةَ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ عَمَّةِ اَنَسِ بْنِ مالك رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پھوپھی زاد سیدنا حارثہ بن عمیر رضی اللہ عنہ
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ حَارِثَةَ خَرَجَ نَظَّارًا فَأَتَاهُ سَهْمٌ فَقَتَلَهُ فَقَالَتْ أُمُّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَرَفْتَ مَوْقِعَ حَارِثَةَ مِنِّي فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ صَبَرْتُ وَإِلَّا رَأَيْتَ مَا أَصْنَعُ قَالَ ”يَا أُمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا لَيْسَتْ بِجَنَّةٍ وَاحِدَةٍ وَلَكِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ وَإِنَّ حَارِثَةَ لَفِي أَفْضَلِهَا“ أَوْ قَالَ ”فِي أَعْلَى الْفِرْدَوْسِ“ شَكَّ يَزِيدُسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ر وایت ہے کہ سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ جاسوسی کے لیے گئے،اچانک انہیں ایک تیر آلگا اور وہ شہید ہوگئے،ان کی والدہ نے کہا: اللہ کے رسول! آپ جانتے ہیں کہ میرا حارثہ کے ساتھ کتنا گہرا تعلق ہے، اب اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرتی ہوں، وگر نہ آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ام حارثہ! جنت ایک تو نہیں ہے، کئی جنتیں ہیں اور حارثہ تو افضل جنت میں ہے۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں فرمایا کہ وہ تو جنت الفردوس کے اعلیٰ مقام میں ہے۔ ایک روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام حارثہ! جنتیں بہت سی ہیں اور حارثہ اعلیٰ جنت الفردوس میں ہے۔