الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ قَالَ قَالَ جَرِيرٌ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَعَلَى أَنْ أَنْصَحَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ قَالَ وَكَانَ جَرِيرٌ إِذَا اشْتَرَى الشَّيْءَ وَكَانَ أَعْجَبَ إِلَيْهِ مِنْ ثَمَنِهِ قَالَ لِصَاحِبِهِ تَعْلَمَنَّ وَاللَّهِ لَمَا أَخَذْنَا أَحَبُّ إِلَيْنَا مِمَّا أَعْطَيْنَاكَ كَأَنَّهُ يُرِيدُ بِذَلِكَ الْوَفَاءَسیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر ان باتوں کی بیعت کی تھی کہ میں آپ کا حکم سن کر اس کی اطاعت کروں گا اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کروں گا۔ ابو زرعہ کہتے ہیں کہ جریر رضی اللہ عنہ جب کوئی چیز خریدتے اور ان کے خیال میں وہ چیزطے شدہ قیمت سے زیادہ قیمت کی ہوتی تو فروخت کنندہ سے کہتے: اللہ کی قسم! ہم نے تمہیں جو دیا ہے اس کی نسبت ہم نے جو چیز تم سے لی ہے، وہ ہمیں زیادہ محبوب ہے۔ گویا وہ یہ بات کہہ کر بائع کی حوصلہ افزائی کرکے اپنی کی ہوئی بیعت کے تقاضا کو پورا کرتے تھے۔