حدیث نمبر: 11651
عَنْ جَابِرٍ قَالَ تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ يَعْنِي أَبَاهُ أَوِ اسْتُشْهِدَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَاسْتَعَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى غُرَمَائِهِ أَنْ يَضَعُوا مِنْ دَيْنِهِ شَيْئًا فَطَلَبَ إِلَيْهِمْ فَأَبَوْا فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اذْهَبْ فَصَنِّفْ تَمْرَكَ أَصْنَافًا الْعَجْوَةَ عَلَى حِدَةٍ وَعِذْقَ زَيْدٍ عَلَى حِدَةٍ وَأَصْنَافَهُ ثُمَّ ابْعَثْ إِلَيَّ“ قَالَ فَفَعَلْتُ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ عَلَى أَعْلَاهُ أَوْ فِي وَسَطِهِ ثُمَّ قَالَ ”كِلْ لِلْقَوْمِ“ قَالَ فَكِلْتُ لِلْقَوْمِ حَتَّى أَوْفَيْتُهُمْ وَبَقِيَ تَمْرِي كَأَنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مِنْهُ شَيْءٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے اور ان کے ذمے کافی قرض تھا، میں نے قرض خواہوں کو ادائیگی کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعاون کی درخواست کی کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ وہ اپنے قرض میں سے کچھ معاف کر دیں،لیکن ان لوگوں نے یہ رعایت دینے سے انکار کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم جا کر ہر قسم کی کھجور الگ الگ کر دو، عجوہ الگ رکھو، عذق زید الگ رکھو اور اس کے بعد مجھے اطلاع دو۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے آپ کی ہدایت کے مطابق سارا کام کیا،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور کھجور کے سب سے اونچے یا سب سے درمیان والے ڈھیر پربیٹھ گئے اور مجھ سے فرمایا: تم پیمانے بھر بھر کر ان لوگوں کو ادائیگی کرتے جاؤ۔ میں نے ایسے ہی کیا کہ پیمانے بھر بھر کر ان لوگوں کا قرض چکا دیا اور میری کھجوریں اسی طرح باقی رہیں گویا ان میں کچھ بھی کمی نہیں ہوئی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11651
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2405، 2781 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14359 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14411»