الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ بِلالِ الْمُؤذن رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: مؤذن رسول سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ إِنَّ بِلَالًا أَبْطَأَ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا حَبَسَكَ“ فَقَالَ مَرَرْتُ بِفَاطِمَةَ وَهِيَ تَطْحَنُ وَالصَّبِيُّ يَبْكِي فَقُلْتُ لَهَا إِنْ شِئْتِ كَفَيْتُكِ الرَّحَى وَكَفَيْتِنِي الصَّبِيَّ وَإِنْ شِئْتِ كَفَيْتُكِ الصَّبِيَّ وَكَفَيْتِنِي الرَّحَى فَقَالَتْ أَنَا أَرْفَقُ بِابْنِي مِنْكَ فَذَاكَ حَبَسَنِي قَالَ ”فَرَحِمْتَهَا رَحِمَكَ اللَّهُ“سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نمازِ فجر سے پیچھے رہ گئے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کہاں رک گئے تھے؟ انھوں نے کہا: میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزرا، وہ چکی چلا رہی تھیں اور بچہ رو رہا تھا۔ میں نے ان سے عرض کیا: آپ چاہیں تو میں چکی چلا دوں اور آپ بچے کو سنبھالیں یا میں بچے کو سنبھال لوں اور آپ چکی چلائیں، انھوں نے کہا: تمہاری نسبت بچے پر میں زیادہ شفیق اور مہربان ہوں، تو اس کام نے مجھے نماز سے دیر کرا دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا پر شفقت کی، اللہ تم پر رحم فرمائے۔