حدیث نمبر: 11648
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَدَخَلَ الْجَنَّةَ فَسَمِعَ مِنْ جَانِبِهَا وَجْسًا قَالَ ”يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَا“ قَالَ هَذَا بِلَالٌ الْمُؤَذِّنُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَ إِلَى النَّاسِ ”قَدْ أَفْلَحَ بِلَالٌ رَأَيْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسراء کرایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت میں داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی ایک طرف سے ہلکی سی آواز سنی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اے جبریل! یہ آواز کون سی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ بلال مؤذن ہے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تحقیق بلال کامیاب ہو گیا ہے،میں نے اس کے لیےیہ کچھ دیکھا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11648
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، قابوس مختلف فيه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2324 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2324»