الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ بِلالِ الْمُؤذن رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: مؤذن رسول سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا بِلَالُ حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الْإِسْلَامِ عِنْدَكَ مَنْفَعَةً فَإِنِّي سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ“ فَقَالَ بِلَالٌ مَا عَمِلْتُ عَمَلًا فِي الْإِسْلَامِ أَرْجَى عِنْدِي مَنْفَعَةً إِلَّا أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طُهُورًا تَامًّا فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ مَا كَتَبَ اللَّهُ لِي أَنْ أُصَلِّيَسیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! تم ایسا کون سا عمل کرتے ہو کہ تمہیں اسلام میں اس کے بہت زیادہ نفع یعنی ثو اب کی امید ہو؟ کیونکہ میں نے آج رات جنت میں اپنے آگے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنی ہے۔ سیدنا بلا ل رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے اسلام میں اور تو کوئی ایسا عمل نہیں کیا، جس پر مجھے یہ ثواب ملا ہو،البتہ میرا معمول ہے کہ میں دن رات میں جب بھی وضو کرتا ہوں تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ مجھے جس قدر توفیق دیتا ہے، میں نماز ادا کر لیتا ہوں۔