حدیث نمبر: 11640
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتَوَجِّهًا إِلَى أَهْلِي فَمَرَرْتُ بِغِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ فَأَعْجَبَنِي لَعِبُهُمْ فَقُمْتُ عَلَى الْغِلْمَانِ فَانْتَهَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَائِمٌ عَلَى الْغِلْمَانِ فَسَلَّمَ عَلَى الْغِلْمَانِ ثُمَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ فَرَجَعْتُ فَخَرَجْتُ إِلَى أَهْلِي بَعْدَ السَّاعَةِ الَّتِي كُنْتُ أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ فِيهَا فَقَالَتْ لِي أُمِّي مَا حَبَسَكَ الْيَوْمَ يَا بُنَيَّ فَقُلْتُ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ فَقَالَتْ أَيُّ حَاجَةٍ يَا بُنَيَّ فَقُلْتُ يَا أُمَّاهُ إِنَّهَا سِرٌّ فَقَالَتْ يَا بُنَيَّ احْفَظْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ قَالَ ثَابِتٌ فَقُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَتَحْفَظُ تِلْكَ الْحَاجَةَ الْيَوْمَ أَوْ تَذْكُرُهَا قَالَ إِي وَاللَّهِ وَإِنِّي لَا أَذْكُرُهَا وَلَوْ كُنْتُ مُحَدِّثًا بِهَا أَحَدًا مِنَ النَّاسِ لَحَدَّثْتُكَ بِهَا يَا ثَابِتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ثابت بنانی سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کابیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے روانہ ہو کر اپنے اہل کی طرف چلا اورراستے میں کھیلتے ہوئے بچوں کے پاس سے گزرا، مجھے ان کا کھیل اچھا لگاتو میں وہاں رک کر انہیں دیکھنے لگا، میں ابھی وہیں کھڑاتھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آکر بچوں کو سلام کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک کام کے لیے روانہ فرمایا، میں کام کرکے واپس آیا تو اپنے سابقہ معمول سے ہٹ کر ذرا لیٹ گھر پہنچا، تو میری والدہ نے مجھ سے دریافت کیا: بیٹے! کہاں دیر ہوگئی تھی؟ میں نے عرض کیا: امی جان! یہ ایک راز کی بات ہے۔ انہوں نے کہا: بیٹے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا۔ ثابت کہتے ہیں، میں نے عرض کیا: ابو حمزہ! کیا آج بھی آپ کو وہ کام یاد ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں اللہ کی قسم یاد رہے، لیکن میں بتاؤں گا نہیں۔ ثابت! اگر لوگوں میں سے کسی کو میں نے وہ بتانا ہوتا تو تمہیں ضرور بتلا دیتا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11640
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2482 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13380 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13413»