الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلٍ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11638
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَخَذَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِيَدِي مَقْدَمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَأَتَتْ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا ابْنِي وَهُوَ غُلَامٌ كَاتِبٌ قَالَ فَخَدَمْتُهُ تِسْعَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ قَطُّ صَنَعْتُهُ أَسَأْتَ أَوْ بِئْسَ مَا صَنَعْتَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ منورہ میں تشریف آوری ہوئی تو میری والدہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا میرا ہاتھ پکڑے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں اور کہا: اللہ کے رسول! میرایہ بیٹا لکھنا پڑھنا جانتا ہے۔ (اسے اپنی خدمت کے لیے قبول فرمائیں) چنانچہ میں نے آپ کی نو برس تک خدمت کی، میں نے کوئی کام کیا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی بھی مجھ سے یوں نہ فرمایا کہ تونے برا کام کیا ہے، یا تو نے غلط کام کیا ہے۔