الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلٍ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَنَسًا غُلَامٌ كَيِّسٌ فَلْيَخْدُمْكَ قَالَ فَخَدَمْتُهُ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ وَاللَّهِ مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَاكَذَا وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَاكَذَاسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ہجرت کے بعد) مدینہ منورہ تشریف لائے تو سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑکر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے گئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! انس رضی اللہ عنہ ایک سمجھداراور ہوشیار بچہ ہے، یہ آپ کی خدمت کیا کرے گا۔ چنانچہ میں (انس) نے سفر و حفر میں دس سال تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت سر انجام دی ۔ اللہ کی قسم! میں نے کوئی کام کر لیا تو آپ نے کبھی بھی مجھ سے یہ نہ فرمایا کہ تو نے یہ کام کیوں کیا؟یا اگر میں نے کوئی کام نہیں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی بھی مجھ سے یہ نہ فرمایا کہ تو نے یہ کام اس طرح کیوں نہیں کیا۔