حدیث نمبر: 11632
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَدِمْنَا مِنْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ فَتُلُقِّينَا بِذِي الْحُلَيْفَةِ وَكَانَ غِلْمَانٌ مِنَ الْأَنْصَارِ تَلَقَّوْا أَهْلِيهِمْ فَلَقُوا أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَنَعَوْا لَهُ امْرَأَتَهُ فَتَقَنَّعَ وَجَعَلَ يَبْكِي قَالَتْ فَقُلْتُ لَهُ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَكَ مِنَ السَّابِقَةِ وَالْقِدَمِ مَا لَكَ تَبْكِي عَلَى امْرَأَةٍ فَكَشَفَ عَنْ رَأْسِهِ وَقَالَ صَدَقْتِ لَعَمْرِي حَقِّي أَنْ لَا أَبْكِي عَلَى أَحَدٍ بَعْدَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ قَالَتْ قُلْتُ لَهُ مَا قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَقَدِ اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِوَفَاةِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ“ قَالَتْ وَهُوَ يَسِيرُ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب ہم حج یا عمرہ سے واپس آئے تو اہل مدینہ نے ذوالحلیفہ میں آکر ہمارا استقبال کیا، انصار کے لڑکے بھی اپنے گھر والوں کو ملنے آئے، جب ان کی سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو ان کو ان کی اہلیہ کی وفات کی خبر دی، انہوں نے اپنے چہرے پر کپڑا ڈال لیا اور رونے لگ گئے۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:میں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت کرے آپ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ہیں اور آپ کو بہت سی فضیلتیں حاصل ہیں۔ آپ بیوی کی وفات پر اس قدر کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے اپنے سر سے کپڑا ہٹا کر کہا: آپ نے درست کہا ہے، واقعی حق تو یہ ہے کہ میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بعد کسی پر نہ روؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں بہت کچھ فرمایا ہے۔ سیدہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: میں نے ان سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکہ اللہ کا عرش سعد بن معاذ کی وفات پر جھوم گیا۔ سیدہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: یہ بات بیان کرتے وقت سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان چل رہے تھے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11632
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «مرفوعه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لجھالة عمرو بن علقمة، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/142، و الحاكم: 3/ 207 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19095 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19305»