حدیث نمبر: 11631
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ كَانَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ أَفَاضِلِ النَّاسِ وَكَانَ يَقُولُ لَوْ أَنِّي أَكُونُ كَمَا أَكُونُ عَلَى أَحْوَالٍ ثَلَاثٍ مِنْ أَحْوَالِي لَكُنْتُ حِينَ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَحِينَ أَسْمَعُهُ يُقْرَأُ وَإِذَا سَمِعْتُ خُطْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا شَهِدْتُ جِنَازَةً وَمَا شَهِدْتُ جِنَازَةً قَطُّ فَحَدَّثْتُ نَفْسِي بِسِوَى مَا هُوَ مَفْعُولٌ بِهَا وَمَا هِيَ صَائِرَةٌ إِلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہا کرتی تھیں کہ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہا افضل ترین لوگوں میں سے تھے، وہ کہا کرتے تھے کہ تین مواقع پر میری جو کیفیت ہوتی ہے، اگر میں اسی حالت پر برقرار رہوں تو یقینا جنتی ہوں گا: (۱)جب میں قرآن کی تلاوت خود کر رہا ہوں یا کسی سے سن رہا ہوں، (۲)جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبہ سنتا ہوں اور (۳)جب میں کسی جنازہ میں شریک ہوتا ہوں تو میری تمام تر توجہ اس طرف ہوتی ہے کہ اس شخص کے ساتھ کیا ہونے والا ہے اور اس کا انجام کیا ہوگا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11631
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف محمد بن عبد الله، اخرجه الطبراني في الكبير : 554، والحاكم: 3/288 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19093 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19303»