الفتح الربانی
أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام— بعض صحابہ کرام کے فضائل کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبي بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أُبَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ ”أَيُّ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَعْظَمُ“ قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَرَدَّدَهَا مِرَارًا ثُمَّ قَالَ أُبَيٌّ آيَةُ الْكُرْسِيِّ قَالَ ”لِيَهْنِكَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ لَهَا لِسَانًا وَشَفَتَيْنِ تُقَدِّسُ الْمَلِكَ عِنْدَ سَاقِ الْعَرْشِ“سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: اللہ کی کتاب میں کونسی آیت سب سے زیادہ عظمت کی حامل ہے؟ انہوں نے جواباً عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بار بار یہی سوال کیا، تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ آیت الکرسی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو المنذر! تمہیں یہ علم مبارک ہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس آیت کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہیں اور یہ اللہ کے عرش کے پائے کے قریب اللہ تعالیٰ کی تقدیس اور پاکی بیان کرتی ہے۔
تمام روایات سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی عظمت اور منقبت کا بیان ہے۔