حدیث نمبر: 11605
عَنْ بِلَالٍ الْعَبْسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ حُذَيْفَةُ مَا أَخْبِيَةٌ بَعْدَ أَخْبِيَةٍ كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِبَدْرٍ مَا يُدْفَعُ عَنْهُمْ مَا يُدْفَعُ عَنْ أَهْلِ هَذِهِ الْأَخْبِيَةِ وَلَا يُرِيدُ بِهِمْ قَوْمٌ سُوءًا إِلَّا أَتَاهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

بلال عبسی سے مروی ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا:بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جو خیمے تھے، ویسے اب خیمے کہاں ہیں؟ جو شرف اور مقام اہل بدر کا ہے وہ کسی دوسرے خیمے والوں کا کیسے ہو سکتا ہے؟ جس نے بھی اہل بدر کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا، اللہ کی طرف سے اس کی ایسی گرفت ہوئی کہ وہ اسی میں پھنسے رہ گئے۔

وضاحت:
فوائد: … اس باب میں غزوۂ بدر اور حدیبیہ میں شرکت کرنے والوں کی بڑی منقبت بیان کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11605
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اثر صحيح، اخرجه البزار: 2944، والطبراني في الاوسط : 3052 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23266 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23655»