الفتح الربانی
كتاب الفضائل والمناقب— فضائل و مناقب کی کتاب
بَابُ فَضْلٍ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَّةَ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ باب: بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والے صحابہ کی فضیلت
حدیث نمبر: 11604
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ عِدَّةَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَوْمَ بَدْرٍ عَلَى عِدَّةِ أَصْحَابِ طَالُوتَ يَوْمَ جَالُوتَ ثَلَاثَ مِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ الَّذِينَ جَاوَزُوا مَعَهُ النَّهْرَ قَالَ وَلَمْ يُجَاوِزْ مَعَهُ النَّهْرَ إِلَّا مُؤْمِنٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم یہ باتیں کیا کرتے تھے کہ بدر والے دن صحابۂ کرام کی تعداد اتنی تھی، جتنی جالوت والے دن طالوت کے ساتھیوں کی تھی،یعنی تین سو چودہ پندرہ افراد تھے، جنہوں نے طالوت کے ساتھ نہرکو عبور کیا تھا اور نہر سے گزر جانے والے صرف مؤمن تھے۔
وضاحت:
فوائد: … موسی علیہ السلام کی وفات کے کچھ عرصہ بعد بنو اسرائیل کے مطالبے پر طالوت کو بادشاہ بنایا گیا، لیکن بنو اسرائیل نے اپنی عادت کے مطابق ان کی بادشاہت پر اعتراض کرنا شروع کر دیے، دوسرے پارے کے آخر میں اسی بادشاہ کا ذکر ہے۔