الفتح الربانی
كتاب الفضائل والمناقب— فضائل و مناقب کی کتاب
بَابُ فَضْلٍ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَّةَ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ باب: بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والے صحابہ کی فضیلت
حدیث نمبر: 11601
عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ ”لَا تُوقِدُوا نَارًا بِلَيْلٍ“ قَالَ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ ”أَوْقِدُوا وَاصْطَنِعُوا فَإِنَّهُ لَا يُدْرِكُ قَوْمٌ بَعْدَكُمْ صَاعَكُمْ وَلَا مُدَّكُمْ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ رات کو آگ نہ جلائیں (تاکہ دشمن کو ہمارا اندازہ نہ ہو)۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بعد میں جب حالات پر امن ہوئے تو آپ نے عام اجازت دے دی تھی کہ جب چاہو آگ جلا اور کھانا تیار کر سکتے ہو، پس بیشک شان یہ ہے کہ تمہارے بعد والی کوئی قوم تمہارے صاع اورمُدّ کو نہیں پہنچ سکتی۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی تم نے ان گھڑیوں میں صاع اور مُد کے بقدر اللہ کی راہ میں جو خرچ کیا ہے، بعد والے لوگ صدقے کی بڑی بڑی مقداروں کے ذریعے بھی اس اجر و ثواب کو نہیں پا سکتے۔