الفتح الربانی
كتاب الفضائل والمناقب— فضائل و مناقب کی کتاب
بَابُ فَضْلٍ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَّةَ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ باب: بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والے صحابہ کی فضیلت
عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلَ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَحَدٌ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ“ قَالَتْ فَقُلْتُ أَلَيْسَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا} [مريم: 71] قَالَتْ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ”ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا“ [مريم: 72]سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والوں میں سے کوئی فرد ان شاء اللہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ کا ارشاد اس طرح نہیں ہے کہ {وَاِنْ مِنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا} … اور تم میں سے کوئی نہیں ہے، مگر وہ جہنم میں وارد ہونے والا ہے۔ سیدہ کہتی ہیں: پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سے آگے یوں تلاوت کرتے ہوئے سنا: {ثُمَّ نُنْجِی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِیْنَ فِیْہَا جِثِیَّا} … پھر ہم اللہ سے ڈرنے والوں کو نجات دے دیں گے اور کافروں کو گھٹنوں کے بل جہنم میں پڑا رہنے دیں گے۔
جن لوگوں نے حدیبیہ کے مقام پردرخت کے نیچے میری بیعت کی تھی، ان شاء اللہ ان میں سے کوئی بھی دوزخ میں داخل نہ ہو گا۔ سیدنا حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ڈانٹا تو انھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرمایا: {وَإِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُہَا} … اوربے شک تم میں سے ہر ایک دوزخ میں وارد ہونے والا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے: {ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِینَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِینَ فِیہَا جِثِیًّا} … پھر ہم ان لوگوں کو جو پرہیز گار ہوئے، دوزخ سے نجات دیں گے اور ظالموں کو ہم اس میں گھٹنوں کے بل چھوڑ دیں گے۔
اسرائیل سے مروی ہے کہ سدی کہتے ہیں: میں نے ہمدانی سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان { وَإِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُہَا} کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: سیدنا عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَرِدُ النَّاسُ النَّارَ ثُمَّ یَصْدُرُونَ مِنْہَا بِأَعْمَالِہِمْ فَأَوَّلُہُمْ کَلَمْحِ الْبَرْقِ ثُمَّ کَالرِّیحِ ثُمَّ کَحُضْرِ الْفَرَسِ ثُمَّ کَالرَّاکِبِ فِی رَحْلِہِ ثُمَّ کَشَدِّ الرَّجُلِ ثُمَّ کَمَشْیِہ۔)) … لوگ دوزخ پر وارد ہوں گے، اور پھر اپنے اپنے اعمال کے مطابق اس کو پار کریں گے، پہلا گروہ تو بجلی کی چمک کی طرح گزر جائے گا، دوسرا گروہ ہوا کی طرح، پھر گھوڑے کی رفتار کی طرح، پھر اونٹ کے سوار کی طرح، پھر انسان کی دوڑ کی مانند اور پھر انسان کے چلنے کی طرح دوزخ سے گزریں گے۔ (ترمذی)
ارشادِ باری تعالیٰ ہیں: {وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا۔ ثُمَّ نُـنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْہَا جِثِیًّا} … تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو جہنم پر وارد نہ ہو، یہ تو ایک طے شدہ بات ہے جسے پورا کرنا تیرے رب کا ذمہ ہے۔ پھر ہم ان لوگوں کو بچا لیں گے جو دنیا میںمتقی تھے اور ظالموں کو اسی میں گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔ (سورۂ مریم: ۷۱، ۷۲)
جن لوگوں نے جہنم میں جانا ہوا، وہ پل صراط کو عبور نہ کر سکیں گے اور اس سے نیچے جہنم میں گر جائیں گے، لیکن جن لوگوں نے جنت میں جانا ہوا، وہ اس پل سے گزر کر جائیں گے، ان آیات میں اسی گزرنے کا ذکر ہے، حافظ ابن حجر نے کہا: دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے، جس نے جہنم میں داخل ہونے کی بات کی، اس کی مراد اس کے پل سے ہی گزرنا ہے، کیونکہ جو آدمی پل صراط کے اوپر سے گزرے گا، اس میں جہنم میں داخل ہونے کے معنی میں ہوگا۔