حدیث نمبر: 116
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ فَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا وَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا وَأَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ، وَعَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ وَرَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِمَا جَاءَ بِهِ عِيسَى وَمَا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَهُ أَجْرَانِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی اپنی لونڈی کو تعلیم دے اور اچھی تعلیم دے اور اس کی اخلاقی تربیت کرے اور اچھی تربیت کرے اور پھر اس کو آزاد کر کے اس سے شادی کرے تو اس کو دو اجر ملیں گے، (اسی طرح اس کے لیے دو اجر ہیں) جو غلام اللہ تعالیٰ کا حق بھی ادا کرے اور اپنے آقا کا بھی اور اہلِ کتاب کا وہ آدمی جو پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لایا اور پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لایا، اس کے لیے بھی دو اجر ہیں۔“

وضاحت:
فوائد: … چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے والے اہل کتاب یکے بعد دیگر دو نبیوں پر ایمان لاتے ہیں، اس لیے ان کو دو گنا اجر ملتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 116
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 97، 3011، 3446، 5083، ومسلم: 154، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19532 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19761»