حدیث نمبر: 11596
عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ عَلَيْنَا فِي الصُّفَّةِ وَعَلَيْنَا الْحَوْتَكِيَّةُ فَيَقُولُ ”لَوْ تَعْلَمُونَ مَا ذُخِرَ لَكُمْ مَا حَزِنْتُمْ عَلَى مَا زُوِيَ عَنْكُمْ وَلَيُفْتَحَنَّ لَكُمْ فَارِسُ وَالرُّومُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس صفہ میں تشریف لاتے، جبکہ ہم پر پگڑی ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: اگر تم یہ جان لو کہ اللہ کے ہاں تمہارے لیے کیا کچھ جمع ہے، تو تمہیں ان چیزوں پر کوئی غم نہیں ہو گا، جو تم کو دنیا میں نہیں دی گئیں،یاد رکھو کہ تمہارے ہاتھوں فارس اور روم ضرور بالضرور فتح ہوں گے۔

وضاحت:
فوائد: … لیکنیہ بات احادیث ِ مبارکہ سے ثابت ہے کہ فقیری کا انجام خیر بہت اچھا ہے، جیسا کہ فضالہ بن عبیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے تو نماز کے قیام کی وجہ سے لوگ بھوک کی وجہ سے گر پڑتے تھے اور یہ اصحاب صفہ ہوتے تھے، بدّو لوگ ان کے بارے میں کہتے تھے: یہ تو پاگل لوگ ہیں، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَوْتَعْلَمُوْنَ مَا لَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ لَاَحْبَبْتُمْ اَنْ تَزْدَادُوْا حَاجَۃً وَّ فَقْرًا۔)) … اگر تمہیں پتہ چل جائے کہ تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کیا اجرو ثواب ہے تو تم پسند کرو گے کہ تمہاری حاجت اور فقیری میں اور اضافہ ہو جائے۔ (ترمذی: ۲۳۶۸)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل والمناقب / حدیث: 11596
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، شريح بن عبيد لم يدرك العرباض بن سارية ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17161 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17293»